سعودی اعتدال پسندی کا سفر

سعودی عرب اور اعتدال پسندی کا سفر

یہ سفر اعتدال پسندی کا نہیں بلکہ آلِ سعود کی بادشاہت کو بچائے رکھنے کا ہے، حال ہی میں اپنے بیٹے کو ولی عہد نامزد کرنا، اور اُس سے قبل اُسے کلیدی عہدوں پر فائز کرنا اِس سفر کے مختلف مراحل تھے، موجودہ صُورتِ حال کو سمجھنے کے لیے ہمیں آلِ سعود اور نجدوحجاز کی مذہبی رجعت پسندی کی تاریخ کو دیکھنا بے حد ضروری ہے۔

۱۹۰۲ میں عبدالعزیز ابن سعود نے تیسری سعودی ریاست کی بُنیاد رکھی، ۱۹۲۰ کی دہائی کے اخیر میں قبائیلی سرداروں نے ابنِ سعود کے خلاف بغاوت کا اعلان کیا اور اُس بغاوت کی سرحدیں اُردن اور کویت کے اندر تک تھیں، اِس بغاوت کو تاریخ میں “بغاوتِ اخوان” یا “Ikhwan Revolt”کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ “اِخوان” میں سے بیشتر کا تعلق نجد کے قبیلوں “اوطیبی” اور “مطیر” سے تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ قبائیلی جنگ جُو آلِ سعود کے اپنے ہی تیار کردہ تھے، اُن کی مذہبی تعلیم اور فوجی تربیت کا انتظام آلِ سعود نے اِس ارادے سے کیا تھا کہ یہ آلِ سعود کی سلطنت کو وسیع علاقوں تک پھیلانے کے کام آئیں گے۔

جب اِس سلطنت کی سرحدیں اُن علاقوں تک پہنچ گئیں جو ابھی تک برطانوی تاج و سامراج کے زیرِ تسلط تھیں تو شاہ عبدالعزیز نے یہ مہم ترک کرنے کا حُکم دے دیا۔ اخوان ، عبدالعزیز کی اِس پالیسی کے سخت مخالف ہو گئے، اخوان کا یہ بھی ماننا تھا کہ عبدالعزیز مغرب کی جدید ٹیکنالوجی استعمال کر کے مذہب کے خلاف جا رہا ہے۔ اِس میں شدت کا اضافہ یہ سوچ تھی، عبدالعزیز نے جہاد روک دیا ہے، کُچھ قبائیلی عمائیدین اور سردار اپنے ذاتی فوائد پر آلِ سعود کے قبضے کیوجہ سے بھی مخالف ہو گئے تھے، نتیجتا، اِن قبائیلیوں نے ہتھیار پھینکنے سے انکار کر دیا۔ چھوٹی موٹی جھڑپوں کے یہ قبائیلی لشکر سُلطان بن بیجاد اور فیصل ال داویش کی قیادت میں جمع ہو کر آلِ سعود کے خلاف صف آرا ہو گئے۔ آلِ سعود کی فوج نے ۱۹۲۹ میں یہ بغاوت بُری طرح کُچل دی۔ جو “اِخوان” آلِ سعود کے وفادار رہے اُنہیں بعد میں سعودی فوج “نیشنل گارڈز” میں ضم کر دِیا گیا۔

۱۹۵۰ اور ۱۹۶۰ کی دہائی میں بھی چند ایک ایسے واقعات پیش آئے ، جِس میں بائیں بازو اور کیمیونیسٹ کی چھوٹی چھوٹی تحریکیں چلیں اور بے دردی سے کُچل دی گئیں۔

اِن تمام واقعات نے آلِ سعود کا یہ عقیدہ اور یقین مزید پختہ کر دِیا کہ اگر اقتدار قائم رکھنا ہے اور اِسے طوالت بخشنی ہے تو معاشرے کو قابُو میں رکھنے کے لیے مذہبی قوتوں پر انحصار اشد ضروری ہے، اگر مذہبی طاقتوں کو قابُو کر لیا تو معاشرہ قابُو میں رہے گے۔

۱۹۶۴ میں “پین اسلامازم” کے داعی ، شاہ فیصل کی تاج پوشی ہوتی ہے، اور ایسے تمام اداروں، افراد، تنظیموں کی مالی معاونت میں کئی گُنا اضافہ کر دیا گیا۔ اِس کا نتیجہ یہ ہُوا کہ سعودی عرب کا ماحول اسلامازم لیے بہت ساز گار ہو گیا، اور کئی ایک مقامی تنظیموں کی داغ بیل پڑ گئی، جو آگے چل کر ریاست کے لیے سیاسی اور مذہبی طور پر بہت بڑا خطرہ بن کر سامنے آئیں۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سرد جنگ بھی عین اِسی دور میں چل رہی تھی۔ اُس وقت سعودی عرب میں سلفی اسلامازم کی دو تحاریک پنپ رہی تھیں۔ پہلی تحریک “حقیقت پسندانہ”، سیاسی اسلام اور معاشرے کے اُمراؑ کی نمائندگی کرتی تھی، اِسے بعد میں “al-sahwa al-Islamiyya” کے نام سے جانا گیا، جو بعد میں مختصر ہو کر صرف “Sahwa” رہ گیا۔ یہ معاشرے کی اکثریت کی نمائندہ تحریک تھی۔

اِسی سے متوازی ایک اور تحریک تھی جو کہ، معاشرے کے پسماندہ، تنہا رہ جانے والے، پسے ہوئے،”پرہیزگار” طبقے کی نمائندہ تھی۔

سلفی اِسلام کی یہ دونوں تحاریک 1960 سے 1990 تک ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ چلتی رہیں حالانکہ دونوں بالکل متضاد عناصر کی نمائندہ تھیں۔ اول الذکر سیاسی اسلام کو بھی ساتھ لیکر چل رہی تھی اور معاشرے کی اکثریت کی نمائندہ تھی ، لہٰذا اُس کے لیے یونیورسٹیوں میں داخل ہونا اور پیر گاڑنا چنداں مُشکل ثابت نہ ہُوا۔1950 کے اخیر سے شروع ہوکر کثیر تعداد میں غیر سعودی مُسلمان بھی اِس تحریک میں شامل ہوتے رہے، مصری اخوان المسلمین جو مصر سے جان بچا کر بھاگنے میں کامیاب ہو گئے اُنہیں سعودی عرب میں اِسی تحریک نے خُوش آمدید کہا۔ نئے آنے والے اصحاب چونکہ اعلٰی تعلیم یافتہ محقق، مدبر، معلم یا پیشہ ورانہ ماہرین تھے، دیکھتے ہی دیکھتے سعودی عرب کی تعلیم اور میڈیا کی ریڑھ کی ہڈی بن گئے، اِن اسباب کی مرہون منت، اِس تحریک نے 70اور 80کی دہائی کے دوران سعودی یونیورسٹیوں میں اپنے آپ کو منظمانہ انداز سے نہ صرف مضبوط کیا بلکہ اپنی ایک ساکھ بھی قائم کی۔ 80 کی دہائی میں یہ تحریک ایک دم سے پلٹہ کھاتی ہے اور اصلاحاتی تحریک کے طور پر سامنے آتی ہے۔ نظریاتی طور پر یہ تحریک روائیتی سلفی، وہابی خیالات کی نمائندہ تھی، مگر، صرف معاشرتی حد تک۔ سیاسی طور پر اِس کے نظریات مصر کے اخوان المسلمین کے قریب تر تھے، جِس کی وجہ اُوپر بیان کر دی گئی ہے، لیکن، سعودی عرب کی بادشاہت کی کبھی بھی سرِ عام مُخالفت نہیں کی بلکہ اِنہوں نے اندر سے حکُومت اور اربابِ اختیار پر مذہب کے ذریعے ہی نظر انداز ہونا شُروع کر دِیا کہ پالیسی سازوں کے اذہان اِن کی گرفت میں تھے، اور ریاست وہ سب کُچھ کر رہی تھی جو یہ لوگ چاہتے تھے۔

دُوسری تحریک جِس کا سرسری تذکرہ اُوپر کیا گیا جو کہ معاشرے کے پسماندہ، پسے ہُوئے افراد کی نمائندہ تھی، ہی وہ تحریک تھی جِس نے بعد میں شدت پسندی کا وہ باب رقم کیا جِس کی حالیہ سعودی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ وہی تحریک تھی جِس سے جہیمن الاوطیبی جیسی شخصیت سامنے آئی۔

۱۹۶۱ میں مفتیِ اعظم محمد بن ابراہیم ال الشیخ کی سربراہی میں مدینہ یونیورسٹی کا قیام عمل میں آتا ہے، بعد میں عبدالعزیز بن باز بھی اِس کے سربراہ بنے۔ اِن دونوں حضرات کی حتی المقدُور کوشش تھی کہ حجاز میں وہابیت کو عام کیا جائے؛ اُس وقت تک حجاز میں ایک طرح کی مذہبی اور ثقافتی خُود مختاری تھی اور وہاں تب تک وہابیت کے نظریات عوام میں قبول نہ تھے۔اب چونکہ اِن اصحاب کو ایک پلیٹ فارم مِل گیا جہاں سے ، حکومتی سرپرستی میں یہ حضرات اپنے خیالات کی کُھلے عام ترویج کر سکتے تھے۔ اِن اختیارات کی بدولت انہوں نے اپنے طلبا کو “دعوةٰ” اور “حسبٰہ” کی ترغیب دی۔

جہاں یہ سب واقعات ہو رہے تھے، اُسی وقت مدینہ کے مذہبی حلقوں میں ایک نئے تصور کی آمد بھی ہوتی ہے، خصوصا شامی نژاد البانیہ سے تعلق رکھنے والے محمد ناصرالدین البانی کی مدینہ میں تشریف آوری، جنہیں خاص طور سے عبدالعزیز بن باز نے شام سےبُلوایا۔اُس وقت بن باز مدینہ یونیورسٹی کے نائب سربراہ تھے۔ بعد ازاں البانی کو وہاں معلم کی ذمہ داریاں بھی بن باز نے ہی سونپیں۔ اِس بُلاوے سے پہلے البانی شام کے مذہبی حلقوں میں خاصے مشہور ہو چُکے تھے اور قدیم اِسلامی نظریہ “اہلِ حدیث” کے احیاؑ کے سخت داعی اور حامی تھے۔ اہلِ حدیث کا نظریہ آٹھویں صدی میں پہلی بار سامنے آیا تھا۔ اِس نظریہ کا بنیادی نکتہ یہ تھا کے دِین کے معاملات میں انسانی استدلال کی قطعا کوئی ضرورت نہیں اور ایسا کرنا اِسلام کی بُنیادی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اِس مکتبہ فکر کے مطابق کوئی ایسا مسئلہ یہ معاملہ جِس کا حل قُران میں موجود نہ ہو تو نبی اکرمؐ کے اُسوہٰ حسنہ ، سُنت سے رہنمائی لی جائے، یہی وجہ ہے کہ اِس مکتبہ فکر کے ماننے والوں نے احادیث کی تدوین و تعلیم میں بہت زیادہ توجہ دی۔ اِسی وجہ سے اِس مکتبہ فِکرکا نام “اہلِ حدیث” پڑ گیا۔ نویں صدی میں چار مذاہب (شافعی، حنبلی، حنفی، ملکی) سامنے آتے ہیں، اِن میں سے فقہ حنبلی نے اہلِ حدیث کے پروان چڑھائی گئی فِکر کو بہت سختی سے اپنایا اور مزید دوام بخشا، حالانکہ بعد میں آنے والے بیشتر حنبلی عُلمائے کرام نے بجائے یہ کہ حنبلی فقہ کے مطابق اجتہاد کرتے، اُس کے اُلٹ اپنے ہی عُلما کی تقلید کو زیادہ آسان سمجھا اور اپنایا۔

اِسی نکتہ کی بُنیاد پر البانی نے احیائے اہلِ حدیث کی بُنیاد از سر نو رکھی ۔ یہ اُس کی وہابیت سے اختلاف کی بُنیاد تھی، کہ وہ اجتہاد کو تو مانتے ہیں لیکن اصل میں حنبلی مذہب کے مقلد ہیں۔ البانی نے چاروں مذاہب کو رد کر دیا اور پھر سے صرف اور صرف قُرآن اور سُنت سے راہنمائی کو ہی درُست جانا۔ البانوی نے وہابیت سے اِس بِنا پر بھی اختلاف کیا کہ یہ لوگ حدیث سے اُتنی راہنمائی نہیں لیتے جتنی انہیں لینی چاہیے۔ البانوی کا حدیثوں کی روایت قائم کرنے کا، اُن کی صحت پرکھنے کا اپنا ایک علیحدٰہ طریقہ کار تھا، جِس کی بِنا پر چند اہم وہابی نظریات پر شدید زد پڑتی تھی، خصوصا ایسا معاملات جِن کا تعلق رسم ورواج سے تھا۔ اِن اختلافات میں بعد ازاں شدید اضافہ ہو گیا، حتیٰ کے البانوی کو 1963 میں سعودی عرب سے بے دخل کر دِیا گیا۔لیکن اِس بے دخلی کا البانوی کے بعض سعودی علمائے کرام، خصوصا بن باز کے ساتھ کے ساتھ اُن کے تعلقات میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ البانوی کے نظریات کی سعودی وہابی نظریات (یا پہلی تحریک جِس کا اُوپر ذکر کیا گیا ہے) پر شدید ضرب ڈالی، اور اِس کی بُنیاد پر دوسری تحریک کو جو بعد میں چل کر “ال جماعت السلفیہ المحتسبہٰ” کے نام سے جانی گئی، کو ایک نیا ولولہ فراہم کیا

الجماعت السلفیہ المحتسبٰہ کا قیام1960کی دہائی کے وسط میں مدینہ میں آیا۔ اِس کی بُنیاد اُن چند طلباٗ نے رکھی جو مدینہ اور اُس کے گردونواح کے علاقوں میں تبلیغِ اسلام کا کام کر رہے تھے۔ یہ طلبا ناصر البانی کے فلسفلہ سے شدید حد تک متاثر تھے، اِن افراد کا یہ ماننا تھا کہ عالمِ اسلام بدعتوں کا شکار ہو کر گُمراہ ہو چُکا ہے، بالخصوص سعودی عرب کے وہابی؛ اور اِسلام کو ایسی تمام خرافات سے پاک کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اِس گروہ کی جماعت التبلیغ اور اخوان المسلمین سے بھی نہیں بنتی تھی؛ یہ دونوں مقاصد کہ اِسلام کی جدید خرافات سے تطہیر اور اُس وقت تمام دیگر تحاریک کا ایک متبادل فراہم کرنا، کو بہت مشہور اور با اختیار عُلمائے کرام بشمول عبد العزیز بن باز اور ابُو بکر الجزائری کی بہت زیادہ حمایت حاصل تھی۔ الجماعت السلفیہ المحتسبٰہ کے بانی اراکین کے انِ عُلمائے کرام کے ساتھ ذاتی نوعیت کے تعلقات بھی تھے؛ یہ اصحاب بن باز کو اپنا “شیخ” مانتے تھے۔

اِس جماعت کی سرگرمیاں اُس وقت اربابِ اقتدار کی نظر میں آئیں جب 1965 میں ایک “تکسیر الصورة” یا “the breaking of the pictures” کے نام سے ایک موومنٹ کا آغاز ہُوا۔ اِن مبلغین نے آہستہ آہستہ مدینہ کے چند علاقوں میں اِسلام کو اپنی سمجھ کے مطابق نافذ کرنا اپنا مذہبی فریضہ سمجھ لیا۔ اِن میں سب سے بڑا کام یہ تھا کہ تمام عوامی مقامات سے تمام تصاویر کو ہٹانا اور اِس تصور کو ختم کرنا تھا، بعد میں اِسی بُنیاد پر اِسی جماعت نے سعودی حُکمرانوں کی مخالفت کی کہ سعودی ریال کے کرنسی نوٹ پر بادشاہِ وقت کی تصویر بُت پرستی ہے اور یہ اللہ تعالٰی کے ساتھ سیدھا سیدھا شرک ہے۔ اُس وقت مدینہ کے مقامی باشندوں اور اِن نو واردوں کے درمیان چند چھوٹی موٹی جھڑپیں بھی ہوئی تھیں، لیکن کِس نے خاص توجہ نہ دی، معاملات اُس وقت بِگڑے جب وسطی مدینہ میں اِنسانی مشابہ پُتلیوں ( mannequin)کو بڑی تعداد میں شاپنگ مالز کے اندر گُھس کر توڑا گیا، لوگوں کی نجی اور تجارتی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا، چند افراد پکڑ لیے گئے اور اُنہیں ایک ہفتے کے لیے جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی۔

ایسی چند جھڑپوں نے اِن افراد کو نیا جوش، جذبہ اور ولولہ فراہم کیا کہ اُنہوں نے بڑے پیمانے پر ایک گروہ بنا لیا اور اُس کا نام “الجماعتہ السلفیہ” رکھا، پھر بن باز سے رابطہ کیا گیا تاکہ اُن کی منظوری لی جاسکے؛ بن باز نے اِس عمل کو بہت سراہا اور یہ مشورہ دِیا کہ نام کے اندر “المحتسبہٰ” کا اضافہ کر لیا جائے ، جِس کے نتیجے میں بن باز اِس تحریک کے رُوحانی اور بانی مُرشد قرار پائے اور پھر ابُو بکر الجزائری کو اپنا نائب مقرر کِیا۔ اِس تحریک کا کوئی آفیشل سربراہ نہیں تھا، بلکہ پانچ سے چھ افراد پر مُشتمل ایک مجلسِ شورٰی تھی، جنِ میں چار بانی ارکین کے ساتھ ساتھ ابُو بکر الجزائری شامل تھے۔
اِس گروہ نے اپنی کاروائیاں مزید تیز کر دیں اور دیکھتے ہی دیکھتے مدینہ اور گردونواح میں اپنا اچھا خاصہ اثر و رسُوخ قائم کر لیا

اِس گروہ نے اپنی کاروائیاں مزید تیز کر دیں اور دیکھتے ہی دیکھتے مدینہ اور گردونواح میں اپنا اچھا خاصہ اثر و رسُوخ قائم کر لیا اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد ِاس میں شامل ہوتی گئی۔ ۱۹۷۰ کی دہائی کے اوائل میں ، گروہ چونکہ خاصہ پھیل چُکا تھا تو انتظامی اُمور، منصوبہ سازی اور میٹنگز وغیرہ کے لیے اچھی خاصی جگہ درکار ہوتی تھی، اِس مقصد کے لیے ایک عمارت خاص طور سے بنائی گی، اور اُس کا نام “بیت الاخوان” رکھا گیا، یہ دو منزلہ عمارت مدینہ کے ایک انتہائی غریب محلے al-Hara al-Sharqiyya میں بنائی گئی، یہ علاقہ اپنے رہائشیوں کے انتہائی سخت قدامت پسندانہ عقائد کی وجہ سے جانا جاتا تھا، سعودی عرب کے شہروں میں دیگر بڑے شہروں کیطرح مُختلف علاقے مُختلف قومیتوں، قبائل اور شہریت اور معاشی حیثیت کے اعتبار سے بانٹے جاتے ہیں، اگر بات ریاض کی ہو تو چند علاقے ایسے ہیں جہاں صرف سعودی ہی رہتے ہیں، وہاں کی عمارتیں، گھروں کا فنِ تعمیر باقی علاقوں کی نِسبت خاصہ مختلف ہوتا ہے۔ بیت الاخوان قدرتی طور سے الجماعت السلفیہ المحتسبٰہ کی مُختلف سرگرمیوں کا مرکز بن گیا، پھر یہاں پر روزانہ کی بُنیاد پر درس بھی دئیے جانے لگے، چند انتہائی اہم امور پر ہفتہ وار مباحث بھی ہونے لگے۔ اِس عمارت کا انتظام یمن سے تعلق رکھنے والے ایک شخص ،جو نہ صرف مدینہ یونیورسٹی کا ایک سابقہ طالبِ علم تھا بلکہ جہمین کا قریبی دوست بھی تھا کہ سُپردتھا، اُس شخص کا نام احمد حسن المعلم تھا۔

وقت گُزرنے کے ساتھ ساتھ، الجماعت السلفیہ المحتسبٰہ کا انتظامی ڈھانچہ بڑا ہونے کے ساتھ ساتھ خاصا پیچیدہ بھی ہوتا چلا گیا، مختلف معاملات کو چلانے اور دُوسری انتظامی اکائیوں کیساتھ ایک منظم ربط قائم رکھنے کےلیے اعلٰی سطحی خصوصی محکمانہ قِسم کی چھوٹی چھوٹی کمیٹیاں بنائی جانے لگیں۔ ایک گروہ، جِس کی سربراہی جہیمن نے شُروع میں اپنے پاس رکھی کی ذمہ داری تنظیم کے اراکین کے سفر اور اُس سے متعلق دیگر پہلووں کا خیال رکھنا تھا، دُوسرا گروہ ایسا تھا جِس کے ذمہ مہمانوں کی خاطر مدارت کا انتظام تھا، تیسرا اور سب سے اہم گروہ وہ تھا جِس کے ذمے تبلیغی گروہوں کی ترتیب، اُن کے سفر کے پروگرام کی تفصیلی ترتیب دینا شامل تھا، اِس گروہ کی ذمہ داری یہ بھی تھی کہ سعودی قبائل کے دُور دراز اور انتہائی پسماندہ دیہاتوں کی نشاندہی کرتا تھا، اور پھر وہاں موجود افراد سے رابطہ کر کے تبلیغی جماعتیں تشکیل پا کر اُن جماعتوں کو روانہ کیا کرتا تھا، ہر قبیلہ کے حساب سے اُس تبلیغی ٹولی کی تعلیم اور تربیت “شارٹ کورسز” کے ذریعے سفر سے چند روز پہلے کی جاتی تھی، قبائیل اور دیہاتوں کا انتخاب کرتے وقت زیادہ توجہ اُن خانہ بدوش قبائل کی طرف دِی جاتی تھی جنہیں مقامی زُبان میں “المسافیرون الجوالُون” یا “al-musafirun al-jawwalun” کہا جاتا تھا۔ الجماعت السلفیہ المحتسبٰہ نے اپنے نئے اراکین پر زور دِیا کہ سعودی عرب کے دیگر شہروں میں بھی مقامی سطح پر جماعت کے دفاتر بنائے جائیں۔ 1976 تک الجماعت السلفیہ المحتسبٰہ کےبرانچ دفاتر مکہ، ریاض، جدہ، طائف، حائل، أبها، دمام اور البُریدہ اور دیگر تمام اہم شہروں میں مقامی قائدین یا رابطہ ممبر سمیت قائم ہو چُکے تھے۔ چند برانچیں، مثلاََ مکہ والی برانچ کی بھی خاص طور سے جماعت کے اغراض و مقاصد اور دیگر ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہُوئے خاص طور سے تعمیر کروائی گئیں تھیں۔

الجماعت السلفیہ المحتسبٰہ کے اراکین کا معاشی و معاشرتی پسِ منظر

چونکہ محاصرہِ بیت اللہ کے دوران اور بعد میں جہیمن کے انتہائی قریب ساتھی اور اراکین یا تو مارے گئے، یا پھر مُلک کے مختلف حصوں سے گرفتار ہونے کے بعد میں جیلوں میں ڈال دیئے گئے، چند ہی ایسے افراد باقی رہ گئے تھے، جو ماضی میں الجماعت السلفیہ المحتسبٰہ کے ساتھ منُسلک رہے تھے یا جہیمن کے قریب رہے تھے، لہٰذا ہر ایک رُکن کے پسِ منظر کے متعلق وسیع معلومات تو میسر نہیں ہیں، لیکن چند ایک سکالرز نے کئی لوگوں اور ذرائع سے جو معلومات اکٹھی کی ہیں ، ذیل کی تفصیلات تقریباََ 35 سے 40ایسے ہی افراد یا ذرائع کی فراہم کردہ ہیں۔ اِن معلومات کی روشنی میں چند ایک پہلو تو بہت نمایاں طور پر اجاگر ہو کر سامنے آتے ہیں ، اول تو یہ کہ الجماعت السلفیہ المحتسبٰہ کے اراکین کی اکثریت نوجوان اور غیر شادی شُدہ افراد پر مشتمل تھی، بہت ہی کم اراکین شادی شُدہ بھی تھے اور صاحبِ اولاد بھی تھے۔ لیکن ایک بات پر تمام ذرائع متفق ہیں کہ الجماعت السلفیہ المحتسبٰہ کے اندر کِسی بھی خاتون کا براہِ راست کوئی کردار نہیں تھا، اراکینِ جماعت مُختلف عُمر وں کے تھے، لیکن اگر جائزہ لیا جائے تو زیادہ تر اراکین کی عُمر ۲۴،۲۵ برس کے آس پاس تھی۔ دُوسرا پہلو جو میسر معلومات سے اخذ ہوتا ہے کہ الجماعت السلفیہ المحتسبٰہ کے بیشتر اراکین کا تعلق معاشرے کے پسماندہ اور نظر انداز گروہوں، قبائل اور طبقات سے تھے، چند ایک ایسا بھی تھے جو حال ہی میں بڑے شہروں میں منتقل ہوئے تھے مگر اُن کا پسِ منظر بھی بدوٗی ہی تھا۔ تاریخی اعتبار سے یہ تمام قبائل (چند ایک کو چھوڑ کر) جدید سعودی ریاست میں یہ قبائل مجموعی طور پر سیاسی اعتبار سے اور انفرادی طور پر معاشی اعتبار سے شکست خُوردہ قبائل کے طور سے جانے جاتے ہیں ۔ الجماعت السلفیہ المحتسبٰہ کے باقی اراکین کی بڑی تعداد غیر مُلکیوں پر مُشتمل تھی جِن میں سے اکثریت کا تعلق یمن سے تھا، یہ کوئی ڈھکی چھُپی بات نہیں سعودی معاشرے میں غیر مُلکی ہمیشہ استحصال کا شکار رہے ہیں،یہ استحصال کِسی حد تک معاشی اور بڑی حد تک سیاسی اورسماجی نوعیت کا رہا ہے۔ الجماعت السلفیہ المحتسبٰہ کی جانب سے کِسی بھی سرکاری عہدے کو قبُول کرنے سے ہمیشہ انکار نے بھی اِس اسحتصال میں اپنا ایک کردار ادا کیا ہے؛ اِن وجوہات کی بِنا پر الجماعت السلفیہ المحتسبٰہ کے ارکین کو ہمیشہ طلبا، بے روزگار یا پھر “شاپ اسسٹنٹ” کے طور پر بھی جانا جاتا رہا۔

ابتدائی طور پر الجماعت السلفیہ المحتسبٰہ نے اپنی تمام تر توانائیوں کی توجہ اخلاقی اور مذہبی اصلاحات کی جانب مرکوز رکھی۔ اُن کی نظر میں اِسلام اور مُسلم معاشروں میں طرح طرح کی جدیدیات نے اصل اِسلام کا چہرہ بہت بُری طرح مسخ کر رکھا تھا، جِس کیوجہ سے لوگ اصل اسلام سے بہت دُور اور کُفر کے بہت قریب ہو چُکے تھے۔ الجماعت السلفیہ المحتسبٰہ نے ہمیشہ صرف اور صرف قُران اور حدیث سے رہنمائی کی شدید حمایت اور وکالت کی۔ اُنہوں نے کِسی بھی فقہ کی اتباع کو اِسلام سے رُوگردانی سمجھا، خاص طور سے تقلید کی سخت مُخالفت کی، حالانکہ وہابی عُلما کی اکثریت امام احمد بن حنبل اور ابن تیمیہ کی مقلد تھی، لیکن اِس کے ساتھ ساتھ الجماعت السلفیہ المحتسبٰہ نے ناصر الدین البانی کو ہمیشہ اپنے لیے مشعل راہ سمجھا اور جماعت کے ہاں اُن کی عقیدت کا یہ عالم تھا کہ جب کبھی بھی موقعہ ملا اُن کے اعزاز میں تقاریب کا اہتمام کیا جاتا رہا، جب بھی کبھی حج یا عُمرے کے سلسلے میں وہ اُردن سے مکہ تشریف لاتے، جماعت کیطرف سے لیکچرز کا بندوبست لازمی تھا۔

الجماعت السلفیہ المحتسبٰہ کے پاکستان میں اہلِ حدیث کے عُلما خصوصاََ شیخ بدیع الدین شاہ راشدی السندھی کے ساتھ انتہائی قریبی روابط تھے، بعد ازاں راشدی کے بیٹے نُور اللہ شاہ راشدی ، جہیمن الاوطیبی کی اُس سپاہ میں بھی شامل تھے جنہوں نے بیت اللہ کا محاصرہ کیا اور پھر حرمِ بیت اللہ میں مارے گئے۔ بدیع الدین شاہ راشدی مکہ میں ہی رہائش پذیر تھے اور الجماعت السلفیہ المحتسبٰہ کے لیے ہمیشہ رہنمائی کا ایک اہم ترین ذریعہ رہے۔ الجماعت السلفیہ المحتسبٰہ کے مصر کے سلفی گروہوں خصوصی طور سے انصار السُنہ المحمدیہ سے بھی اچھے ، مضبوط اور باقاعدہ اور منظم تعلقات بھی تھے، یہ گروہ “توحید” کے نام سے ایک ماہانہ رسالہ بھی شائع کیا کرتا تھا، اِس گروہ کے اساتذہ کے لیکچرز بھی مدینہ یُونیورسٹی میں باقاعدگی سے منعقد کرائے جاتے رہے۔

۔ جاری ہے ۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *